شہروں کے شور و غل سے کوئی واسطہ نہ ہو
شہروں کے شور و غل سے کوئی واسطہ نہ ہو
جی چاہتا ہے کوئی مرا آشنا نہ ہو
پہلے تو اتنی بھیڑ نہ آتی تھی گاؤں سے
شہروں کی دلکشی میں اضافہ ہوا نہ ہو
کھلتے تھے پہلے فکر کے گل شاخ ذہن سے
دور خزاں نے زیست پہ قبضہ کیا نہ ہو
کیوں دوپہر میں بچے پریشان گھر میں ہیں
آموں کا پیڑ ان کے لئے جھومتا نہ ہو
دو بوند کے نشان ہیں خط کے جواب میں
کاغذ پہ اس کی آنکھ سے آنسو گرا نہ ہو
مت دیجے اس کے ہاتھ کو الزام خون کا
نازک ہتھیلیوں پہ وہ رنگ حنا نہ ہو
کہتی ہے خاک قبر یہ نخوت طراز سے
وہ کون ہے جو دہر میں آ کے فنا نہ ہو
اس ہوڑ میں ہیں سب کے مکاں آگ پر ظفرؔ
میرے مقابلے میں کوئی دوسرا نہ ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.