Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شہروں کے شور و غل سے کوئی واسطہ نہ ہو

ظفر مرزاپوری

شہروں کے شور و غل سے کوئی واسطہ نہ ہو

ظفر مرزاپوری

MORE BYظفر مرزاپوری

    شہروں کے شور و غل سے کوئی واسطہ نہ ہو

    جی چاہتا ہے کوئی مرا آشنا نہ ہو

    پہلے تو اتنی بھیڑ نہ آتی تھی گاؤں سے

    شہروں کی دلکشی میں اضافہ ہوا نہ ہو

    کھلتے تھے پہلے فکر کے گل شاخ ذہن سے

    دور خزاں نے زیست پہ قبضہ کیا نہ ہو

    کیوں دوپہر میں بچے پریشان گھر میں ہیں

    آموں کا پیڑ ان کے لئے جھومتا نہ ہو

    دو بوند کے نشان ہیں خط کے جواب میں

    کاغذ پہ اس کی آنکھ سے آنسو گرا نہ ہو

    مت دیجے اس کے ہاتھ کو الزام خون کا

    نازک ہتھیلیوں پہ وہ رنگ حنا نہ ہو

    کہتی ہے خاک قبر یہ نخوت طراز سے

    وہ کون ہے جو دہر میں آ کے فنا نہ ہو

    اس ہوڑ میں ہیں سب کے مکاں آگ پر ظفرؔ

    میرے مقابلے میں کوئی دوسرا نہ ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے