دکھ درد کے اظہار کی فرصت نہیں ملتی
دکھ درد کے اظہار کی فرصت نہیں ملتی
یہ حال ہے رونے کی بھی مہلت نہیں ملتی
جس طرح کی وحشت سے ہے منسوب ترا شہر
ایسی تو کسی شہر میں وحشت نہیں ملتی
تہ داریٔ معنی ہی نہ ہو گر تو غزل کیا
وہ شعر بھی کیا جس میں اشارت نہیں ملتی
سرمایۂ احساس بڑی قیمتی شئے ہے
ہر شخص کو اتنی بڑی دولت نہیں ملتی
یوں ملنے کو تو ملتی ہے ہر چیز جہاں میں
اعجازؔ مگر قلب کو راحت نہیں ملتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.