آئی جو شہر زر کی ہوا گھر بدل گیا
آئی جو شہر زر کی ہوا گھر بدل گیا
پکے مکاں کے شوق میں منظر بدل گیا
دیوار و در تو بن گئے رونق چلی گئی
رنگ قبا تو مل گیا پیکر بدل گیا
کچی زمیں پہ گرتی تھی بارش کی بوندیں سب
اب کے برس تو چھت کا ہی تیور بدل گیا
وہ نیم کا شجر وہ پرندوں کے چہچہے
پتھر کی ان چھتوں میں مقدر بدل گیا
تھے ہم بھی اس دیار میں اک شاخ پر ثمر
آندھی چلی ہوس کی تو جوہر بدل گیا
حسرت رہی کہ اب کوئی پہچانے گا ہمیں
بستی وہی ہے پر یہاں منظر بدل گیا
کھو کر ملے ہیں ہم کو یہ آرام کے نشاں
راحت ملی تو نیند کا بستر بدل گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.