لڑکیاں مانگتی ہیں آزادی
لڑکیاں مانگتی ہیں آزادی
یعنی مشکل میں پڑ گئی شادی
عورتیں عورتوں کی دشمن ہیں
پھر بھی بدنام مرد آبادی
اب تو آباد ہو نہیں سکتا
تو نے کی ہے کسی کی بربادی
ہم نے آغاز کر دیا لیکن
تم بھی دکھلاؤ تھوڑی استادی
خواب نگری سے ہم نکل آئے
تم بھی نکلو نہ گھر سے شہزادی
ان سے امید کیسی شائستہؔ
جو ترے در پہ آئے فریادی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.