زلف نظارۂ ساز منظر شام
زلف نظارۂ ساز منظر شام
چھب تری اور ماہتاب کا نام
عشق میں اے دل اتنی مایوسی
طائر عزم اور یوں تہ دام
اس قدر بے توجہی نہ برت
دو گھڑی ہے مسافروں کا قیام
یاد ایام وہ زمانۂ عمر
رابطوں کے وہ یادگار ایام
صحبتوں کی جہت جہت وقعت
قہقہوں کے علم خیام خیام
والہانہ حیات کا عالم
خود نمایانہ خوش خواص و عوام
نو بہ نو اس کے انگ انگ کا رنگ
لالہ رخ گل جبیں سمن اندام
اس کے انداز لے اڑی ہے صبا
موج در موج اسی کی نقل خرام
تشنگی کا سوال رند بہ رند
قحط مے کا خیال جام بہ جام
جستجو شرط ہے روش بہ روش
منزلوں کے نشاں ہیں گام بہ گام
طلب آمادہ دل رہے گوہرؔ
حسن آئے ہی آئے اب سر بام
موڑ پھر رخش فکر اسی جانب
تا نہ آئے گریز کا الزام
وہ دکھاتا رہا ہنر کی بہار
بے نیاز ستائش و انعام
لطف تفصیل اختصار اس کا
حسن ایجاز اس کا طول کلام
جان پیچیدگی ہے سہل اس کا
اس کے ابلاغ کا شرف ابہام
غالبؔ نامور کے نام پہ کر
مدح کے اہتمام کا اتمام
دفتر شوق کے ورق تو اٹھا
سر خمیدہ پڑے قلم کو تو تھام
عجز اظہار کی پکار تو سن
ذکر بے چارگی تو کر سر عام
مدح ساحل ہوا سفینۂ مدح
نیک آغاز نیک تر انجام
میں فرومایہ و فرو منصب
وہ گراں عزت و گراں اکرام
اس کا حلقہ بگوش ہوں ورنہ
زر خالص سے رشتۂ مس خام
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.