مست آنکھوں کی قسم کھانے کا موسم آ گیا
مست آنکھوں کی قسم کھانے کا موسم آ گیا
جام کو شیشے سے ٹکرانے کا موسم آ گیا
عصمت توبہ کو ٹھکرانے کا موسم آ گیا
آ گیا پی کر بہک جانے کا موسم آ گیا
پھر گھٹا چھائی بہک جانے کا موسم آ گیا
جام کا شیشے کا پیمانے کا موسم آ گیا
حشر کا پیغام لے کر اٹھ رہی ہے چشم دوست
دل کی ہر دھڑکن پہ اترانے کا موسم آ گیا
یہ فضا یہ چاندنی راتیں یہ دور جام و مے
مستیوں میں غرق ہو جانے کا موسم آ گیا
ہو رہی ہیں جمع اک مرکز پہ دل کی وحشتیں
ہم نشیں شاید بہار آنے کا موسم آ گیا
مسکراتا ہے کوئی چھپ چھپ کے دل کی آڑ میں
حسرتوں کے رقص فرمانے کا موسم آ گیا
رفتہ رفتہ واقعات درد یاد آنے لگے
چپکے چپکے اشک برسانے کا موسم آ گیا
دل میں عیش مے کدہ انگڑائیاں لینے لگا
ہر غم دنیا کو ٹھکرانے کا موسم آ گیا
بڑھ رہا ہے خود بخود اقبالؔ جوش بے خودی
عالم امکاں پہ چھا جانے کا موسم آ گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.