Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کوئی سمجھائے یہ کیا رنگ ہے مے خانے کا

اقبال صفی پوری

کوئی سمجھائے یہ کیا رنگ ہے مے خانے کا

اقبال صفی پوری

MORE BYاقبال صفی پوری

    کوئی سمجھائے یہ کیا رنگ ہے مے خانے کا

    آنکھ ساقی کی اٹھے نام ہو پیمانے کا

    کس کو معلوم تھی پہلے سے خرد کی قیمت

    عالم ہوش پہ احسان ہے دیوانے کا

    گرمیٔ شمع کا افسانہ سنانے والو

    رقص دیکھا نہیں تم نے ابھی پروانے کا

    کم نگاہی سے مری سمت سر بزم نہ دیکھ

    سلسلہ ٹوٹ نہ جائے کہیں افسانے کا

    چشم ساقی مجھے ہر گام پہ یاد آتی ہے

    راستہ بھول نہ جاؤں کہیں مے خانے کا

    اب تو ہر شام گزرتی ہے اسی کوچے میں

    یہ نتیجہ ہوا ناصح ترے سمجھانے کا

    یوں ہی آبادیاں پھیلیں تو کسی دن شاید

    راستہ ہی نہ رہے شہر سے ویرانے کا

    منزل غم سے گزرنا تو ہے آساں اقبالؔ

    عشق ہے نام خود اپنے سے گزر جانے کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے