کوئی سمجھائے یہ کیا رنگ ہے مے خانے کا
کوئی سمجھائے یہ کیا رنگ ہے مے خانے کا
آنکھ ساقی کی اٹھے نام ہو پیمانے کا
کس کو معلوم تھی پہلے سے خرد کی قیمت
عالم ہوش پہ احسان ہے دیوانے کا
گرمیٔ شمع کا افسانہ سنانے والو
رقص دیکھا نہیں تم نے ابھی پروانے کا
کم نگاہی سے مری سمت سر بزم نہ دیکھ
سلسلہ ٹوٹ نہ جائے کہیں افسانے کا
چشم ساقی مجھے ہر گام پہ یاد آتی ہے
راستہ بھول نہ جاؤں کہیں مے خانے کا
اب تو ہر شام گزرتی ہے اسی کوچے میں
یہ نتیجہ ہوا ناصح ترے سمجھانے کا
یوں ہی آبادیاں پھیلیں تو کسی دن شاید
راستہ ہی نہ رہے شہر سے ویرانے کا
منزل غم سے گزرنا تو ہے آساں اقبالؔ
عشق ہے نام خود اپنے سے گزر جانے کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.