دشت پیتا ہے یہاں روز سمندر لگ بھگ
دشت پیتا ہے یہاں روز سمندر لگ بھگ
بن چکا ہے دل مغموم قلندر لگ بھگ
جب سے تقلید مری کرنے لگا ہے تو میاں
قد ترا آیا مرے قد کے برابر لگ بھگ
روح تک اس کو ہوئی تھی نہ رسائی حاصل
تھا مرے جسم کا جو ایک شناور لگ بھگ
یاد میں شمع کی رویا تھا ہواؤں کا ہجوم
ایک تارے کی طرح تھی وہ منور لگ بھگ
زہر پیتا ہوں سلگتے ہوئے الفاظ کا میں
شعر کہتا ہوں مقدر سے مکرر لگ بھگ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.