درد تنہائیوں میں روتے ہیں
درد تنہائیوں میں روتے ہیں
عکس بینائیوں میں روتے ہیں
خواب سے نسبتیں بتاتے لوگ
دن کی سچائیوں میں روتے ہیں
ہم سخن محفلوں میں ہنستے ہیں
اور تنہائیوں میں روتے ہیں
ہم سمندر مزاج رکھتے ہیں
اور گہرائیوں میں روتے ہیں
سادگی بھی تو ایک نعمت ہے
لوگ دانائیوں میں روتے ہیں
زندگی اور کوئی کھیل رچا
ہم تماشائیوں میں روتے ہیں
راحتیں تھک کے سو گئیں شاید
جسم انگڑائیوں میں روتے ہیں
- کتاب : Word File Mail By Qamar Ahmad
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.