پیٹھ میں خنجر کا ڈر ہے کیا کروں
پیٹھ میں خنجر کا ڈر ہے کیا کروں
یہ شریفوں کا نگر ہے کیا کروں
لوٹنے میں دیر ہو ہی جائے گی
راستے میں اس کا گھر ہے کیا کروں
میں ہوں آوارہ مگر معصوم ہوں
دوستوں کا سب اثر ہے کیا کروں
دو گھڑی ہی لطف دے گا آپ کو
میرا قصہ مختصر ہے کیا کروں
کاٹ پھینکو اس کو تو آرام ہو
درد سر میں کس قدر ہے کیا کروں
کیسے چینل کی بڑھے ٹی آر پی
آج پھر باسی خبر ہے کیا کروں
مجھ سے رہیے دور جل جائیں نہ آپ
میری باتوں میں شرر ہے کیا کروں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.