ہمارا جذبہ بہر طور اعتدال میں ہے
ہمارا جذبہ بہر طور اعتدال میں ہے
یہ اور بات کہ وہ شعلہ اشتعال میں ہے
جو حق پسند ہیں تھوڑا سا انتظار کریں
کہ خوش خیالی کا دریا ابھی ابال میں ہے
کسی کو فکر نہیں رنج و غم کے ماروں کی
امیر شہر کی شہرت مگر اچھال میں ہے
وہاں بھی لوگ حصار ستم میں جیتے ہیں
شریف آدمی یاں بھی خراب حال میں ہے
یہ سن رہے ہیں کہ بے حد گھٹن میں رہتی ہے
وہ مچھلی قید جو اعجازؔ اس کے جال میں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.