گمان سے گمان تھے مجھے کسی گمان پر
گمان سے گمان تھے مجھے کسی گمان پر
سوالیہ نشان تھے سوالیہ نشان پر
اذان دفن ہو گئی تھی ہاکروں کے شور میں
سو ہم بھی صرف ہو گئے ثواب کی دکان پر
بتا یہ بات کس طرح وہ اپنی ماؤں سے کہیں
جو مسترد کیے گئے ہوں مادری زبان پر
پلٹ کے آ گیا ہوں میں خفا خفا خجل خجل
کہ وقفۂ نماز تھا شراب کی دکان پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.