اس دریچے پر نظر ہے اور تپتی دوپہر
اس دریچے پر نظر ہے اور تپتی دوپہر
پھر سفر اندر سفر ہے اور تپتی دوپہر
امتحان استواری کی درخشانی تو دیکھ
ایک حبشی ریت پر ہے اور تپتی دوپہر
ایک خاموشی پہ دنیا بھر کی آسائش ادھر
اور ادھر نیزے پہ سر ہے اور تپتی دوپہر
اک طلسم خواب خوش آثار ہے تیرا وصال
ہم ہیں ہجرت کا نگر ہے اور تپتی دوپہر
میں جھلس جاؤں نہ قاسمؔ سوچتے ہی سوچتے
اک طلسم خیر و شر ہے اور تپتی دوپہر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.