Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تو اگر خاک اڑا دیتا ہے دریاؤں میں

کاشف بیگ کاشف

تو اگر خاک اڑا دیتا ہے دریاؤں میں

کاشف بیگ کاشف

MORE BYکاشف بیگ کاشف

    تو اگر خاک اڑا دیتا ہے دریاؤں میں

    پیاس مجھ کو بھی نہیں لگتی ہے صحراؤں میں

    وادیٔ موت سے گزریں تو ملی ہم کو حیات

    کس قدر حوصلہ رکھتا ہے خدا ماؤں میں

    لوگ پھر کاٹ کے وہ پیڑ جلا دیتے ہیں

    مدتوں بیٹھتے ہیں جس کی گھنی چھاؤں میں

    تم مرے دل سے نکل آئے تو حیرت کیسی

    شہر کے لوگ تو رکتے بھی نہیں گاؤں میں

    اب کسی غیر سے شکوہ تو مناسب بھی نہیں

    جب کوئی کام نہیں آیا شناساؤں میں

    مفلسی کیا ہے یہ وہ لوگ بتائیں گے تمہیں

    حاجتیں جن کی بدل جائیں تمناؤں میں

    وقت بگڑا تو وہ بیمار پڑے ہیں کاشفؔ

    ڈھول بجتے تھے کبھی جن کے مسیحاؤں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے