تو اگر خاک اڑا دیتا ہے دریاؤں میں
تو اگر خاک اڑا دیتا ہے دریاؤں میں
پیاس مجھ کو بھی نہیں لگتی ہے صحراؤں میں
وادیٔ موت سے گزریں تو ملی ہم کو حیات
کس قدر حوصلہ رکھتا ہے خدا ماؤں میں
لوگ پھر کاٹ کے وہ پیڑ جلا دیتے ہیں
مدتوں بیٹھتے ہیں جس کی گھنی چھاؤں میں
تم مرے دل سے نکل آئے تو حیرت کیسی
شہر کے لوگ تو رکتے بھی نہیں گاؤں میں
اب کسی غیر سے شکوہ تو مناسب بھی نہیں
جب کوئی کام نہیں آیا شناساؤں میں
مفلسی کیا ہے یہ وہ لوگ بتائیں گے تمہیں
حاجتیں جن کی بدل جائیں تمناؤں میں
وقت بگڑا تو وہ بیمار پڑے ہیں کاشفؔ
ڈھول بجتے تھے کبھی جن کے مسیحاؤں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.