سنگ ہے اب جس سے میری آبرو لکھی گئی
سنگ ہے اب جس سے میری آبرو لکھی گئی
ہاتھ جس سے اس حسیں کی گفتگو لکھی گئی
آئنہ ناقص ہو جس کا کیا کرے گا تازہ ہاتھ
تجھ سے اب تک کون صورت ہو بہو لکھی گئی
توڑ دو یہ انگلیاں اٹھو گھروں کی راہ لو
ہو چکی ہر داستاں ہر آرزو لکھی گئی
تو ہوا کب تھا کہ سوتے میں تجھے باندھا گیا
یہ سزائے قید تیرے روبرو لکھی گئی
ہر کھلے صحرا میں سرما رات تنہا کون تھا
کس کی حیرت کی حکایت کو بہ کو لکھی گئی
کون ہے میں نے کہا جس پر تھمے گی جا کے تو
اس ہوا نے ریت پر ننھی سی تو لکھی گئی
چاند ٹیلوں پر نہ تھے راہیں صدا دیتی نہ تھیں
ایسی گم راتوں میں شرح جستجو لکھی گئی
شام پھر سرما کے صحنوں میں سیاہی ہو گئی
پھر دلوں میں اس کی خواہش با وضو لکھی گئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.