سمندروں میں بھی صحرا دکھائی دیتا ہے
سمندروں میں بھی صحرا دکھائی دیتا ہے
مری نظر کو یہ کیا کیا دکھائی دیتا ہے
جنون اس کو حقیقت بنا کے مانے گا
جو میری آنکھ میں سپنا دکھائی دیتا ہے
نہ جانے کون سے چشمے سے دیکھتا ہے اسے
ہر ایک چہرے پہ دھبہ دکھائی دیتا ہے
تم اس کو دیکھنے جاؤ تو غور یہ کرنا
بچھڑ کے مجھ سے وہ کیسا دکھائی دیتا ہے
ثمرؔ یہ کون سی دنیا میں آ گیا ہوں میں
ہر ایک شخص اکیلا دکھائی دیتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.