سمجھ لیں عکس کی کاری گری ہے پانی پر
سمجھ لیں عکس کی کاری گری ہے پانی پر
یہ آسمان نہیں اوڑھنی ہے پانی پر
ہر ایک موج غزل خواں دکھائی دیتی ہے
یہ کس نے آ کے لکھی شاعری ہے پانی پر
کلیم کو ہے دیا تحفۂ جمال طور
پھر اس کے بعد انہیں راہ دی ہے پانی پر
اشارہ پا کے ہواؤں کا جانب منزل
ہماری ناؤ چلی جا رہی ہے پانی پر
میں بوند بوند کا گویا حساب رکھتا ہوں
کہ منحصر ہی مری زندگی ہے پانی پر
وہ سانحہ جو ہوا اس کے بعد نہر فرات
عجیب قسم کی شرمندگی ہے پانی پر
یہ چار سو ہے جو بکھری سی چاندنی عدنانؔ
یہ ماہتاب کی جلوہ گری ہے پانی پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.