مسافر تیری منزل ہی سفر ہے
مسافر تیری منزل ہی سفر ہے
یہ دنیا چند سالوں کا ہی گھر ہے
ہمیں خانہ بدوشی بھا رہی ہے
سفر کی دھوپ ہی اپنا شجر ہے
چلے تھے ڈھونڈھنے اپنا جہاں ہم
کہاں پر کھو گئے کس کو خبر ہے
ہزاروں میل لمبے راستے ہیں
ہماری خار سے لپٹی ڈگر ہے
ذرا سستا تو لوں ان وادیوں میں
سہانی رت میں کھو جانے کا ڈر ہے
کسی ہمراہ نے ٹوکا تھا مجھ کو
سڑک یہ بند ہے جاتی کدھر ہے
وفا کی راہ پر چلتے ہوئے ہم
وہاں پہنچے جہاں بس گل مہر ہے
چلی باد صبا کوثرؔ کی جانب
نمی اوڑھے ہوئے خوشبو سے تر ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.