کسی منزل کو بھی خبر نہ لگے
کسی منزل کو بھی خبر نہ لگے
یوں چلو زندگی سفر نہ لگے
عقل حیلہ طراز چاہتی ہے
ایسی بازی کہ جس میں سر نہ لگے
دو قدم دشمنوں کے ساتھ بھی چل
ہاں اگر دوستوں سے ڈر نہ لگے
منزلوں دل کے ساتھ ساتھ آیا
ہم سفر وہ کہ ہم سفر نہ لگے
تیرے غم سے سکون ملنے لگا
تیرے غم کو کہیں نظر نہ لگے
ہائے کس وقت تم نے یاد کیا
ہائے اس وقت ہم کو پر نہ لگے
آج بستر تو نرم ہے باقیؔ
اور اگر آنکھ رات بھر نہ لگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.