اک بے جہت سفر نے تھکایا بہت مجھے
اک بے جہت سفر نے تھکایا بہت مجھے
میں آبلہ قدم تھی بھگایا بہت مجھے
آسودگی میں غم کا بھی کچھ کچھ ملاپ تھا
جیون کا جو بھی رنگ تھا بھایا بہت مجھے
یوں تو چمک رہی تھی مرے خواب کی کرن
اس ماہ نیم شب نے رلایا بہت مجھے
میں جس کے دائرے میں چکوروں سی یوں پھروں
وو ماہتاب سمجھے پرایا بہت مجھے
مجھ کو خلا میں جا کے بھٹکنے سے ڈر لگا
ہر چند آسماں نے بلایا بہت مجھے
دریا سے ڈوبتے نے کنارے کی بات کی
موجوں نے راز کھولا ستایا بہت مجھے
یہ میں جو روشنی کا سراپا ہوں میرے دوست
اک ہجر نے ازل سے جلایا بہت مجھے
گھاٹے کا کاروبار ہوں یہ جانتا تھا وہ
حیرت ہے اس نے پھر بھی کمایا بہت مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.