Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اک بے جہت سفر نے تھکایا بہت مجھے

مہناز انجم

اک بے جہت سفر نے تھکایا بہت مجھے

مہناز انجم

MORE BYمہناز انجم

    اک بے جہت سفر نے تھکایا بہت مجھے

    میں آبلہ قدم تھی بھگایا بہت مجھے

    آسودگی میں غم کا بھی کچھ کچھ ملاپ تھا

    جیون کا جو بھی رنگ تھا بھایا بہت مجھے

    یوں تو چمک رہی تھی مرے خواب کی کرن

    اس ماہ نیم شب نے رلایا بہت مجھے

    میں جس کے دائرے میں چکوروں سی یوں پھروں

    وو ماہتاب سمجھے پرایا بہت مجھے

    مجھ کو خلا میں جا کے بھٹکنے سے ڈر لگا

    ہر چند آسماں نے بلایا بہت مجھے

    دریا سے ڈوبتے نے کنارے کی بات کی

    موجوں نے راز کھولا ستایا بہت مجھے

    یہ میں جو روشنی کا سراپا ہوں میرے دوست

    اک ہجر نے ازل سے جلایا بہت مجھے

    گھاٹے کا کاروبار ہوں یہ جانتا تھا وہ

    حیرت ہے اس نے پھر بھی کمایا بہت مجھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے