Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہے وعدۂ فردا سو مجھے آج یہ ڈر ہے

محمد رضوان لطیف

ہے وعدۂ فردا سو مجھے آج یہ ڈر ہے

محمد رضوان لطیف

MORE BYمحمد رضوان لطیف

    ہے وعدۂ فردا سو مجھے آج یہ ڈر ہے

    کل کون رہے زندہ بھلا کس کو خبر ہے

    سانسوں کی اسیری میں دھڑکتا ہوا یہ دل

    بوسیدہ سی اک کشتی ہے اور آگے بھنور ہے

    مانے نہ مرا دل کہ میں اس شہر کو چھوڑوں

    پر ساتھ ہی تیار پڑا رخت سفر ہے

    ہر طرز خوشامد کو سمجھتا ہوں میں اب تو

    برسوں کی ریاضت نے سکھایا یہ ہنر ہے

    یہ میری نظر میں جو سرابوں کا چمن ہے

    ہے شوخیٔ بینائی یا پھر گرد سفر ہے

    خوش خلقی مری یوں ہی نہیں ماند پڑی ہے

    اک تیر جفا ہے کہ جو پیوست جگر ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے