ہے وعدۂ فردا سو مجھے آج یہ ڈر ہے
ہے وعدۂ فردا سو مجھے آج یہ ڈر ہے
کل کون رہے زندہ بھلا کس کو خبر ہے
سانسوں کی اسیری میں دھڑکتا ہوا یہ دل
بوسیدہ سی اک کشتی ہے اور آگے بھنور ہے
مانے نہ مرا دل کہ میں اس شہر کو چھوڑوں
پر ساتھ ہی تیار پڑا رخت سفر ہے
ہر طرز خوشامد کو سمجھتا ہوں میں اب تو
برسوں کی ریاضت نے سکھایا یہ ہنر ہے
یہ میری نظر میں جو سرابوں کا چمن ہے
ہے شوخیٔ بینائی یا پھر گرد سفر ہے
خوش خلقی مری یوں ہی نہیں ماند پڑی ہے
اک تیر جفا ہے کہ جو پیوست جگر ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.