چہرے پہ ہے ابھی بھی سفر کی تھکان دیکھ
چہرے پہ ہے ابھی بھی سفر کی تھکان دیکھ
پھر بھی مرے شکستہ پروں کی اڑان دیکھ
دنیا میں کون دوست ہے دشمن ہے کون کون
ہیں کس کے کس کے ہاتھ میں تیر و کمان دیکھ
تجھ کو ترے وجود پہ کتنا غرور تھا
مٹی میں دب کے مٹ گئے نام و نشان دیکھ
کس طرح شخصیت کو تراشا ہے عمر بھر
پتھر سے جسم پر ہیں نمایاں نشان دیکھ
دے تند آب جو کے ذرا حوصلے کو داد
کس طرح کاٹ دیتی ہے مشکل چٹان دیکھ
فرحانؔ اپنے تلخ رویے پہ غور کر
اس سے بھی ٹوٹ جاتا ہے دل کا جہان دیکھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.