یوں ریا عام ہوئی ہے کہ روا لگتی ہے
یوں ریا عام ہوئی ہے کہ روا لگتی ہے
تلخ سی بات سہی بات خدا لگتی ہے
ہمہ تشہیر ہوا اب مرا گم سم رہنا
شاید اب میری خموشی بھی صدا لگتی ہے
وہی ریشم سے سبک ہاتھ وہی پھول سا جسم
وہی صورت ہے جہاں آنکھ ذرا لگتی ہے
پا کے خوش بھی نہیں کچھ کھو کے پریشاں بھی نہیں
آرزو عشق میں راضی بہ رضا لگتی ہے
غم دوری بھی گیا لطف حضوری بھی گیا
بے حسی دل کی عجب آج سوا لگتی ہے
پھر جنوں شہر میں تعزیر طلب ہے گوہرؔ
نگہ خلق پھر انگشت نما لگتی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.