جو میں کمزور ہوتا تو یہ دشواری ضرور آتی
جو میں کمزور ہوتا تو یہ دشواری ضرور آتی
چراغ دل بجھانے کے لیے آندھی ضرور آتی
وہ جیسا ہے اسے ویسا اگر میں منہ پہ کہہ دیتا
تو میرے قتل کی شاید کوئی دھمکی ضرور آتی
ہمیشہ بے حیائی سے ملا کرتے ہو تم ہم سے
حیا داروں میں رہتے تو حیا داری ضرور آتی
اپاہج بے سہارا باپ یہ کہتا ہے رو رو کر
اگر بیٹا رہا ہوتا تو بیساکھی ضرور آتی
اسے حالات نے رستے میں شاید روک رکھا ہے
وہ پھر پنگھٹ پہ بھرنے کے لیے پانی ضرور آتی
بہت الجھا کے رکھا ہے ہمیں گندی سیاست نے
اگر ہم متحد ہوتے تو خوشحالی ضرور آتی
اگر انصاف ہوتا شہر کے ایوان میں مضطرؔ
مرے حصے میں بھی دو وقت کی روٹی ضرور آتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.