Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پردے میں یوں تو پھول کھلا احتیاط کا

ظفر اقبال

پردے میں یوں تو پھول کھلا احتیاط کا

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    پردے میں یوں تو پھول کھلا احتیاط کا

    چرچا ہے شہر بھر میں اسی واردات کا

    پھر آگ سے گزر کے مٹی ہے سیاہ بھوک

    آٹا تنور میں نظر آیا پرات کا

    مہلت ہی دی نہ اپنے دل شر پسند نے

    پرہیز تھا اسے تو بہت چھوت چھات کا

    موڑا جو چہرہ ساتھ وہ سارا ہی مڑ گیا

    جیسے بنا ہوا تھا کسی سخت دھات کا

    دو چار ہاتھ کھیلئے کھل کر بس اپنے ساتھ

    ایسا نہیں خیال ہمیں جیت مات کا

    سب روشنائی اڑ گئی شب بھر میں کیا لکھیں

    ڈھکنا کھلا رہا کہیں دل کی دوات کا

    گھر بیچ کر ہی اب کے چکایا ہے قرض غم

    ہم بوجھ کب سہار سکے اس کی بات کا

    کچھ ریت پھیلتی ہوئی صحرائے صبر کی

    کچھ زور ٹوٹتا ہوا دریائے ذات کا

    آنکھوں سے آتے جاتے الجھتا ہے اے ظفرؔ

    دیوار پر لکھا ہوا کچھ اس کے ہات کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے