پردے میں یوں تو پھول کھلا احتیاط کا
پردے میں یوں تو پھول کھلا احتیاط کا
چرچا ہے شہر بھر میں اسی واردات کا
پھر آگ سے گزر کے مٹی ہے سیاہ بھوک
آٹا تنور میں نظر آیا پرات کا
مہلت ہی دی نہ اپنے دل شر پسند نے
پرہیز تھا اسے تو بہت چھوت چھات کا
موڑا جو چہرہ ساتھ وہ سارا ہی مڑ گیا
جیسے بنا ہوا تھا کسی سخت دھات کا
دو چار ہاتھ کھیلئے کھل کر بس اپنے ساتھ
ایسا نہیں خیال ہمیں جیت مات کا
سب روشنائی اڑ گئی شب بھر میں کیا لکھیں
ڈھکنا کھلا رہا کہیں دل کی دوات کا
گھر بیچ کر ہی اب کے چکایا ہے قرض غم
ہم بوجھ کب سہار سکے اس کی بات کا
کچھ ریت پھیلتی ہوئی صحرائے صبر کی
کچھ زور ٹوٹتا ہوا دریائے ذات کا
آنکھوں سے آتے جاتے الجھتا ہے اے ظفرؔ
دیوار پر لکھا ہوا کچھ اس کے ہات کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.