میرا صبر و قرار ٹوٹا ہے
میرا صبر و قرار ٹوٹا ہے
ایک دل بار بار ٹوٹا ہے
یوں ابھرتا ہے درد سینے سے
زندگی کا خمار ٹوٹا ہے
گرتے ہیں کیوں یہ آنکھوں سے آنسو
ضبط بے اختیار ٹوٹا ہے
اب تو ملنے کا وعدہ کر مجھ سے
وصل کا انتظار ٹوٹا ہے
آپ نے صرف بے وفائی کی
''میرا تو اعتبار ٹوٹا ہے''
مل کے میثاقؔ پھر بچھڑ جانا
دل پہ یوں کوہسار ٹوٹا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.