ہر بات پہ پلکوں کو بھگویا نہیں کرتے
ہر بات پہ پلکوں کو بھگویا نہیں کرتے
رونا بھی اگر آئے تو رویا نہیں کرتے
دن بھر ہمیں آرام کا اک پل نہیں ملتا
گھر جا کے بھی آرام سے سویا نہیں کرتے
منزل کا نشاں ہوتا ہے چھالوں کا لہو بھی
ہم پاؤں کے زخموں کو یوں دھویا نہیں کرتے
چاہت سے ملا ہو کہ مقدر سے ملا ہو
پا لیتے ہیں جس کو اسے کھویا نہیں کرتے
جن پیڑوں کی شاخوں پہ ہوں نفرت کے فقط پھل
بیج ان کے زمیں میں کبھی بویا نہیں کرتے
کچھ باتوں کو کہنے کی ضرورت نہیں ہوتی
ہر جذبے کو لفظوں میں پرویا نہیں کرتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.