یہ رمز و شعر بحر و غزل سب ہمیں کے ہیں
یہ رمز و شعر بحر و غزل سب ہمیں کے ہیں
لیکن یہ سارے پھول کسی دل نشیں کے ہیں
اس دشت بے اماں نے ڈرایا نہیں مجھے
جتنے بھی سانپ ہیں وہ مری آستیں کے ہیں
اب بارگاہ عشق میں ایسا مقام ہے
آنکھوں سے ہی ادا ہیں جو سجدے جبیں کے ہیں
اک تیری ہاں میں ہاں کو ملایا تمام عمر
اے یار ہم خلاف جو لفظ نہیں کے ہیں
اپنا پتہ کسی کو ملے بھی تو کیا بشرؔ
یہ عشق جس جہاں کا ہے ہم بھی وہیں کے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.