نالہ ہی نکلے ہے گو ہم مدعا کہنے کو ہیں
نالہ ہی نکلے ہے گو ہم مدعا کہنے کو ہیں
لب نہیں کہنے میں اب کیا جانے کیا کہنے کو ہیں
دوست کرتے ہیں ملامت غیر کرتے ہیں گلہ
کیا قیامت ہے مجھی کو سب برا کہنے کو ہیں
شکوہ حرف تلخ کا یا شور بختی کا گلہ
ہم جو کچھ کہنے کو ہیں سو بے مزا کہنے کو ہیں
غیر سے سرگوشیاں کر لیجئے پھر ہم بھی کچھ
آرزو ہائے دل رشک آشنا کہنے کو ہیں
ہو گئے نام بتاں سنتے ہی مومنؔ بے قرار
ہم نہ کہتے تھے کہ حضرت پارسا کہنے کو ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.