میں نے یہ کب کہا تھا سدھر جانا چاہیے
دلچسپ معلومات
پروین شاکر کی برسی پر اسلام آباد میں پڑھی گئی۔ مصرع طرح ’’یہ فیصلہ تو ہو کہ کدھر جانا چاہیے‘‘۔
میں نے یہ کب کہا تھا سدھر جانا چاہیے
بس خود بہ خود نصیب سنور جانا چاہیے
ناصح سے اور رقیب سے نمٹوں میں کس طرح
ان میں سے ایک کو تو گزر جانا چاہیے
تصویر یار دیکھ کے زاہد نے بھی کہا
بے شک کبھی کبھار ادھر جانا چاہیے
پہلے بجا تھا رہتا تھا غصہ جو ناک پر
اب ناک کٹ گئی ہے اتر جانا چاہیے
ہم دو ہیں بس یہ خواب بہت دیکھتا ہوں میں
ان کو اب اس میں رنگ بھی بھر جانا چاہیے
الجھا ہوا ہوں مسئلۂ حور و یار میں
یہ نقد وہ ادھار کدھر جانا چاہیے
اس کو سدھارنے کا طریقہ بس ایک ہے
ناصح کو لے کے آپ کے گھر جانا چاہیے
پوچھی جو راہ کوچۂ جاناں رقیب نے
ایسی بتائی سوئے سقر جانا چاہیے
دریا چڑھا ہوا ہے وہ بالائے بام ہیں
موجیں بھی کہہ رہی ہیں ٹھہر جانا چاہیے
یا رب ذرا سے دانۂ گندم کی بات تھی
مدت ہوئی اب اس کا اثر جانا چاہیے
دعوائے عشق وہ بھی سر کوچۂ رقیب
میری سنو تو صاف مکر جانا چاہیے
ضامنؔ نظر جھکا کے وہ شرمائیں جب کبھی
موقع وہی ہے تم کو پسر جانا چاہیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.