Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

غفلت میں جی رہا ہے تو اس بے رخی کے ساتھ

فیضان عمر

غفلت میں جی رہا ہے تو اس بے رخی کے ساتھ

فیضان عمر

MORE BYفیضان عمر

    غفلت میں جی رہا ہے تو اس بے رخی کے ساتھ

    جیسے ترے بغیر ہوں میں تیرگی کے ساتھ

    میں نے کہا مذاق میں تو زندگی ہے یار

    پھر ہو گیا مذاق مری زندگی کے ساتھ

    خانہ بدوش لوگ ہیں مرتے ہیں بھوک سے

    غربت ملی ہے تحفہ ہمیں بے گھری کے ساتھ

    میں مبتلا ہوں ہجر میں اور وصل میں رقیب

    میں اک بلا کے ساتھ ہوں وہ اک پری کے ساتھ

    میرے سہارے اس نے گزارا ہے بس سمے

    بن کر رہا ہوں سیل میں جیسے گھڑی کے ساتھ

    وہ شخص میرے دل سے ہے ایسے جڑا ہوا

    جیسے جڑا ہے درد مری شاعری کے ساتھ

    مچھلی بغیر پانی تڑپتی ہے جس طرح

    اس طرح میں رہا ہوں تمہاری کمی کے ساتھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے