غفلت میں جی رہا ہے تو اس بے رخی کے ساتھ
غفلت میں جی رہا ہے تو اس بے رخی کے ساتھ
جیسے ترے بغیر ہوں میں تیرگی کے ساتھ
میں نے کہا مذاق میں تو زندگی ہے یار
پھر ہو گیا مذاق مری زندگی کے ساتھ
خانہ بدوش لوگ ہیں مرتے ہیں بھوک سے
غربت ملی ہے تحفہ ہمیں بے گھری کے ساتھ
میں مبتلا ہوں ہجر میں اور وصل میں رقیب
میں اک بلا کے ساتھ ہوں وہ اک پری کے ساتھ
میرے سہارے اس نے گزارا ہے بس سمے
بن کر رہا ہوں سیل میں جیسے گھڑی کے ساتھ
وہ شخص میرے دل سے ہے ایسے جڑا ہوا
جیسے جڑا ہے درد مری شاعری کے ساتھ
مچھلی بغیر پانی تڑپتی ہے جس طرح
اس طرح میں رہا ہوں تمہاری کمی کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.