لڑنے کو تو ہوتی نہیں لشکر کی ضرورت
لڑنے کو تو ہوتی نہیں لشکر کی ضرورت
اک دور میں کافی تھی بہتر کی ضرورت
جو میرے لیے ہی ہو پریشانی کا باعث
مجھ کو نہیں ایسے کسی رہبر کی ضرورت
کافی ہے ڈبونے کے لیے ایک ہی قطرہ
کس کو ہے جہاں میں یوں سمندر کی ضرورت
شیشے کے مکاں ان کو ہی اچھے نہیں لگتے
جن کو ہے ہمیشہ سے ہی پتھر کی ضرورت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.