ہم نے تجھ پر کوئی الزام نہیں آنے دیا
ہم نے تجھ پر کوئی الزام نہیں آنے دیا
اک غزل میں بھی ترا نام نہیں آنے دیا
تو نے اک دن ہمیں ناکام کہا اور ہم نے
خود کو اپنے بھی کسی کام نہیں آنے دیا
اک نشانی بھی فراموش نہیں کی اس کی
ایک بھی زخم کو آرام نہیں آنے دیا
اپنی پلکوں میں چھپائے رکھے آنسو اپنے
اک ستارہ بھی لب بام نہیں آنے دیا
زندگی اس لیے پرکیف کٹی ہے سرورؔ
دل میں اندیشۂ انجام نہیں آنے دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.