ایک الزام مرے سر پہ لگا رہنے دو
ایک الزام مرے سر پہ لگا رہنے دو
اپنی ہر یاد کو اس دل میں بسا رہنے دو
دل میں ملنے کی کسک لب پہ دعا رہنے دو
دم رخصت کوئی جینے کی ادا رہنے دو
تم ہتھیلی پہ مرا نام نہ لکھنا ہرگز
راز چاہت کا زمانے سے چھپا رہنے دو
اب ہواؤں میں بکھر جانے دو خوشبو بن کر
پھول ہوں تو مجھے کاکل میں سدا رہنے دو
اے زمانے تجھے کیوں فکر ہے یوں وارثؔ کی
وہ برا ہے تو اسے یوں ہی برا رہنے دو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.