Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سکوت زرد کبھی سرخ سی صدا ہو کر

ظفر اقبال

سکوت زرد کبھی سرخ سی صدا ہو کر

ظفر اقبال

MORE BYظفر اقبال

    سکوت زرد کبھی سرخ سی صدا ہو کر

    مجھے دکھائی دیا زہر کیا سے کیا ہو کر

    رواں رہا مرے سینے پہ رات کا دریا

    گھرا تھا سر پہ سیہ آسماں گھٹا ہو کر

    سفید سانپ کہ سویا پڑا تھا جنگل میں

    چمک گیا مری آنکھوں میں راستا ہو کر

    یہ سطح آب کی لرزش ہے میرے دم سے کہ میں

    رچا ہوا ہوں فضا میں رم ہوا ہو کر

    ڈرائے رکھتا ہے سب کو جو تیز کانٹوں سے

    کبھی ملا تھا مجھے شاخ سے جدا ہو کر

    بکھر چلا ہوں ظفرؔ راکھ بن کے راہوں میں

    میں دل کی آگ سے نکلا تھا کیمیا ہو کر

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے