سکوت زرد کبھی سرخ سی صدا ہو کر
سکوت زرد کبھی سرخ سی صدا ہو کر
مجھے دکھائی دیا زہر کیا سے کیا ہو کر
رواں رہا مرے سینے پہ رات کا دریا
گھرا تھا سر پہ سیہ آسماں گھٹا ہو کر
سفید سانپ کہ سویا پڑا تھا جنگل میں
چمک گیا مری آنکھوں میں راستا ہو کر
یہ سطح آب کی لرزش ہے میرے دم سے کہ میں
رچا ہوا ہوں فضا میں رم ہوا ہو کر
ڈرائے رکھتا ہے سب کو جو تیز کانٹوں سے
کبھی ملا تھا مجھے شاخ سے جدا ہو کر
بکھر چلا ہوں ظفرؔ راکھ بن کے راہوں میں
میں دل کی آگ سے نکلا تھا کیمیا ہو کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.