مرا کیا غم سے کچھ رشتہ لگے ہے
مرا کیا غم سے کچھ رشتہ لگے ہے
کسی کا درد ہو اپنا لگے ہے
بدلتی تب مجھے دنیا لگے ہے
دل مضطر کو جب جھٹکا لگے ہے
تری زلفوں سے اے جان تمنا
تعلق رات کا گہرا لگے ہے
عجب دستور ہے اس گلستاں کا
گلوں پر بھی یہاں پہرا لگے ہے
جو حسرت سے تکے جاتا ہے مجھ کو
وہ کوئی وقت کا مارا لگے ہے
تعفن ہے مرے کمرے میں لیکن
میں عادی ہوں مجھے اچھا لگے ہے
پیے جاتا ہے انساں کا لہو تک
یہ عہد نو بہت پیاسا لگے ہے
سر گلشن اٹھے ہے ایک محشر
نیا جب بھی کوئی پودا لگے ہے
یہ کیسا شہر ہے اے نورؔ مضطر
یہاں کا ہر بشر بہرا لگے ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.