Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مرا کیا غم سے کچھ رشتہ لگے ہے

نور قریشی

مرا کیا غم سے کچھ رشتہ لگے ہے

نور قریشی

MORE BYنور قریشی

    مرا کیا غم سے کچھ رشتہ لگے ہے

    کسی کا درد ہو اپنا لگے ہے

    بدلتی تب مجھے دنیا لگے ہے

    دل مضطر کو جب جھٹکا لگے ہے

    تری زلفوں سے اے جان تمنا

    تعلق رات کا گہرا لگے ہے

    عجب دستور ہے اس گلستاں کا

    گلوں پر بھی یہاں پہرا لگے ہے

    جو حسرت سے تکے جاتا ہے مجھ کو

    وہ کوئی وقت کا مارا لگے ہے

    تعفن ہے مرے کمرے میں لیکن

    میں عادی ہوں مجھے اچھا لگے ہے

    پیے جاتا ہے انساں کا لہو تک

    یہ عہد نو بہت پیاسا لگے ہے

    سر گلشن اٹھے ہے ایک محشر

    نیا جب بھی کوئی پودا لگے ہے

    یہ کیسا شہر ہے اے نورؔ مضطر

    یہاں کا ہر بشر بہرا لگے ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے