سکوت شب سے عجب مشغلہ نکلتا ہے
سکوت شب سے عجب مشغلہ نکلتا ہے
میں تجھ کو ڈھونڈوں تو اپنا پتا نکلتا ہے
امید وصل میں شعلے ہی ہاتھ آئے ہیں
دیے کو چھیڑو تو بس مرثیہ نکلتا ہے
کتاب کھولوں جو میں اپنے تلخ ماضی کی
ہر اک ورق سے نیا حادثہ نکلتا ہے
عجیب موڑ پہ لائی ہے یہ مسافت دل
جہاں سے جاؤ وہیں راستہ نکلتا ہے
میں چپ رہوں تو سلگتی ہے خامشی میری
جو لب ہلاؤں تو پھر مرثیہ نکلتا ہے
پرکھ رہا ہے مجھے وہ کئی زمانوں سے
ہر ایک بار نیا مسئلہ نکلتا ہے
عجیب شور ہے یادوں کی اس حویلی میں
خموشیوں سے بھی اک قہقہہ نکلتا ہے
یہ میری آنکھ کے صحرا کی پیاس ہے شاید
کہ ہر سراب سے اک راستہ نکلتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.