Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

سکوت شب سے عجب مشغلہ نکلتا ہے

محمد اسد علی وڑائچ

سکوت شب سے عجب مشغلہ نکلتا ہے

محمد اسد علی وڑائچ

MORE BYمحمد اسد علی وڑائچ

    سکوت شب سے عجب مشغلہ نکلتا ہے

    میں تجھ کو ڈھونڈوں تو اپنا پتا نکلتا ہے

    امید وصل میں شعلے ہی ہاتھ آئے ہیں

    دیے کو چھیڑو تو بس مرثیہ نکلتا ہے

    کتاب کھولوں جو میں اپنے تلخ ماضی کی

    ہر اک ورق سے نیا حادثہ نکلتا ہے

    عجیب موڑ پہ لائی ہے یہ مسافت دل

    جہاں سے جاؤ وہیں راستہ نکلتا ہے

    میں چپ رہوں تو سلگتی ہے خامشی میری

    جو لب ہلاؤں تو پھر مرثیہ نکلتا ہے

    پرکھ رہا ہے مجھے وہ کئی زمانوں سے

    ہر ایک بار نیا مسئلہ نکلتا ہے

    عجیب شور ہے یادوں کی اس حویلی میں

    خموشیوں سے بھی اک قہقہہ نکلتا ہے

    یہ میری آنکھ کے صحرا کی پیاس ہے شاید

    کہ ہر سراب سے اک راستہ نکلتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے