کشتیوں کو ناخدا بھی چاہیئے
کشتیوں کو ناخدا بھی چاہیئے
اور خدا کا آسرا بھی چاہیئے
ان ہواؤں نے بجھائے ہیں چراغ
اور چراغوں کو ہوا بھی چاہیئے
رکھنی ہوں قائم جو یہ نزدیکیاں
رکھنا تھوڑا فاصلہ بھی چاہیئے
کچھ پرانے درد بھی درکار ہیں
زخم لیکن اک نیا بھی چاہیئے
منزلوں کے واسطے گلشنؔ ہمیں
راستہ بھی حوصلہ بھی چاہیئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.