قسمت کا لکھا بھی کب مٹ پایا ہے
قسمت کا لکھا بھی کب مٹ پایا ہے
ہم نے بھی رو رو کر کام چلایا ہے
ہم کیا جانیں جنت کیسی ہوتی ہے
اس سے پوچھو جس نے تم کو پایا ہے
ہم سے پوچھو پیار کی پچ کے پیچ و خم
ہم نے سب سے پہلے وکٹ گنوایا ہے
جس کی خاطر سب الزام لیے خود پر
اس نے بھی ہم پر الزام لگایا ہے
اک تتلی کے اڑ جانے کے ماتم میں
جانے سارا گلشن کیوں مرجھایا ہے
یوں تو شہر دل میں بھیڑ بہت ہے پر
اس کی اب تک کون جگہ لے پایا ہے
ہجر کے دیمک نے تن کا یہ حال کیا
مجھ پہ بڑھاپا عمر سے پہلے آیا ہے
اس کے شہر سے آنے والی ریل میں ہرشؔ
تنہائی میں پہروں وقت بتایا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.