یاد کے جزیرے پر رنگ کے بہاؤ میں
یاد کے جزیرے پر رنگ کے بہاؤ میں
موسموں کی بارش کے گیت کے چناؤ میں
دل کو کر لیا میں نے قید اب دلیلوں میں
اس طرح سے سمٹا ہوں درد دل کے گھاؤ میں
آپ اپنا زائر ہوں طور ہے مرے دل میں
جل رہا ہوں اپنی ہی ذات کے الاؤ میں
عارضی کی چاہت میں دائمی کو بھولا ہوں
خود کو بیچ آیا ہوں کوڑیوں کے بھاؤ میں
دھوپ سہ نہیں سکتے رنج کیسے جھیلو گے
کاش تم کبھی جلتے زیست کے الاؤ میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.