خواب آزادی کا آنکھوں میں مچلتا دیکھوں
خواب آزادی کا آنکھوں میں مچلتا دیکھوں
قید پنجرے میں اگر کوئی پرندہ دیکھوں
لب کو یا آنکھ کو یا حسن سراپا دیکھوں
دو ہی آنکھوں سے بھلا اور میں کیا کیا دیکھوں
کیوں لیے پھرتا ہے چہرے پہ مکھوٹوں کا ہجوم
کب سے ہے دل میں تمنا تجھے تنہا دیکھوں
دل یہ کرتا ہے نکل جاؤں کسی دن خود سے
اور پھر دور سے خود اپنا تماشہ دیکھوں
میری آنکھوں میں طلب جھانک رہی ہے تیری
یوں ہی کب تک دل ناشاد کو روتا دیکھوں
غم کی جو برف ہے دل میں وہ پگھل جائے تو
شوق سے آنکھوں کے رستے تجھے بہتا دیکھوں
بے خطا قید ہوں اب کھول دو باب زنداں
تاکہ انصاف کے میزان کو بکتا دیکھوں
تیری آغوش محبت میں پگھل جاؤں میں
یعنی سورج کو سمندر میں اترتا دیکھوں
ایک مدت سے نہیں دیکھا ہے خود کو احمدؔ
پاس آ جا کہ تری آنکھوں میں چہرہ دیکھوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.