Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

خواب آزادی کا آنکھوں میں مچلتا دیکھوں

احمد فیض آبادی

خواب آزادی کا آنکھوں میں مچلتا دیکھوں

احمد فیض آبادی

MORE BYاحمد فیض آبادی

    خواب آزادی کا آنکھوں میں مچلتا دیکھوں

    قید پنجرے میں اگر کوئی پرندہ دیکھوں

    لب کو یا آنکھ کو یا حسن سراپا دیکھوں

    دو ہی آنکھوں سے بھلا اور میں کیا کیا دیکھوں

    کیوں لیے پھرتا ہے چہرے پہ مکھوٹوں کا ہجوم

    کب سے ہے دل میں تمنا تجھے تنہا دیکھوں

    دل یہ کرتا ہے نکل جاؤں کسی دن خود سے

    اور پھر دور سے خود اپنا تماشہ دیکھوں

    میری آنکھوں میں طلب جھانک رہی ہے تیری

    یوں ہی کب تک دل ناشاد کو روتا دیکھوں

    غم کی جو برف ہے دل میں وہ پگھل جائے تو

    شوق سے آنکھوں کے رستے تجھے بہتا دیکھوں

    بے خطا قید ہوں اب کھول دو باب زنداں

    تاکہ انصاف کے میزان کو بکتا دیکھوں

    تیری آغوش محبت میں پگھل جاؤں میں

    یعنی سورج کو سمندر میں اترتا دیکھوں

    ایک مدت سے نہیں دیکھا ہے خود کو احمدؔ

    پاس آ جا کہ تری آنکھوں میں چہرہ دیکھوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے