فضا نے بدل دی زمانے کی صورت
فضا نے بدل دی زمانے کی صورت
قفس بن گیا آشیانے کی صورت
نہ یوں دل کو روتے جو تم سوچ لیتے
جلانے سے پہلے بجھانے کی صورت
حباب رواں دیکھ کر دل پکارا
یہی تھی ہمارے فسانے کی صورت
مجھے بھول جاؤ میں اب اس جگہ ہوں
جہاں سے نہیں کوئی آنے کی صورت
تڑپتی ہوئی بجلیوں میں سحر تک
میں دیکھا کیا آشیانے کی صورت
قفس ہی میں صیاد پھر آ گیا ہوں
چمن میں نہ تھی آب و دانے کی صورت
منیرؔ شکستہ کی آنکھوں سے پوچھو
چراغ آندھیوں میں جلانے کی صورت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.