آنکھ میں یہ جو خواب ادھورا رکھا ہے
آنکھ میں یہ جو خواب ادھورا رکھا ہے
اس نے مجھ کو اب تک زندہ رکھا ہے
سب کی نظریں مجھ پر آ کر ٹھہری ہیں
میں نے خود پر اتنا پردہ رکھا ہے
خود سے تیری باتیں کرتا رہتا ہوں
میں نے تجھ کو ایسے زندہ رکھا ہے
پیڑ سے گر کر پھل پودے ہو جاتے ہیں
یعنی کھونے میں بھی پانا رکھا ہے
خواب تلک میں اب تو دریا آتے ہیں
پیاس نے مجھ کو اتنا الجھا رکھا ہے
جال کے کھٹکے نے ہی اب تک پنچھی کو
دانہ ہونے پر بھی بھوکا رکھا ہے
روز سمٹنے کا ڈر رہتا ہے مجھ کو
میں نے خود کو اتنا پھیلا رکھا ہے
ساری عظمت پانی ہی کی ہے ورنہ
صحرا کے اوپر ہی دریا رکھا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.