عافیت کی بات سنتی اور اشارہ دیکھتی
عافیت کی بات سنتی اور اشارہ دیکھتی
پھیر میں آنے سے پہلے میں کنارہ دیکھتی
دھوپ کو زنجیر پہنانے کا لمحہ آ گیا
پہلے کھڑکی کھولتی پھر ابر پارہ دیکھتی
اک دفعہ دیکھے تھے میں نے آرزو کے کاغذات
وقت مل جاتا تو میں ان کو دوبارہ دیکھتی
یہ محبت اور کیا ہے پیاس کی چھلنی تمام
فائدے سے دل الگ کرتی خسارہ دیکھتی
سسکیاں بھرتا ہے پلکوں کے کناروں پر نمک
میں ابد تک آ گئی ہوں یہ ستارہ دیکھتی
پانیوں کے اس طرف کے سبز پن کی خیر ہو
ناؤ کی خواہش میں کیا پیڑوں پہ آرا دیکھتی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.