Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عافیت کی بات سنتی اور اشارہ دیکھتی

مہناز انجم

عافیت کی بات سنتی اور اشارہ دیکھتی

مہناز انجم

MORE BYمہناز انجم

    عافیت کی بات سنتی اور اشارہ دیکھتی

    پھیر میں آنے سے پہلے میں کنارہ دیکھتی

    دھوپ کو زنجیر پہنانے کا لمحہ آ گیا

    پہلے کھڑکی کھولتی پھر ابر پارہ دیکھتی

    اک دفعہ دیکھے تھے میں نے آرزو کے کاغذات

    وقت مل جاتا تو میں ان کو دوبارہ دیکھتی

    یہ محبت اور کیا ہے پیاس کی چھلنی تمام

    فائدے سے دل الگ کرتی خسارہ دیکھتی

    سسکیاں بھرتا ہے پلکوں کے کناروں پر نمک

    میں ابد تک آ گئی ہوں یہ ستارہ دیکھتی

    پانیوں کے اس طرف کے سبز پن کی خیر ہو

    ناؤ کی خواہش میں کیا پیڑوں پہ آرا دیکھتی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے