یہ درد کا موسم ہے پھر سینہ دری مانگو
یہ درد کا موسم ہے پھر سینہ دری مانگو
کچھ اور جنوں والو آشفتہ سری مانگو
جب چاک ہی ہونا ہر دامن کا مقدر ہے
پھر جیب دریدہ سے کیوں بخیہ گری مانگو
آنکھوں کے دریچوں سے در آتے ہیں درد و غم
بچنا ہے لٹیروں سے تو بے بصری مانگو
آئینوں کی قسمت میں تو خود شکنی تھی ہی
فولاد کی فطرت سے تم خود نگری مانگو
اب مصر میں یوسف کے بھی دام نہیں لگتے
نا قدروں کی اس دنیا میں بے ہنری مانگو
ایوانوں پہ تو شب کے سائے ہی مسلط ہیں
زندانوں کے روزن سے نور سحری مانگو
ملتی ہے قفس سے بھی پرواز کی حد اکثر
دانے کی ہوس والو بے بال و پری مانگو
تسلیم کی توہیں ہے نادانو دعا خود ہی
عادت ہے دعاؤں کی تو بے اثری مانگو
کھیلو ابھی تاروں سے دل چاند سے بہلاؤ
بچے ہو نہ بچپن میں بالغ نظری مانگو
ہر حادثہ دیوار و در ہی سے ہے وابستہ
محلوں کے پرستارو بے بام و دری مانگو
یوں بجھتے چراغوں کی لو تیز نہیں ہوتی
ڈھلتے ہوئے سایوں سے شعلہ نگری مانگو
یہ خار و گل و شعلہ سب وہم ہے نظروں کا
ارباب بصیرت سے کچھ دیدہ وری مانگو
کنجوس تہی دامن دنیا تمہیں کیا دے گی
مانگو جو نعیمیؔ تو آہ سحری مانگو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.