Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یہ درد کا موسم ہے پھر سینہ دری مانگو

عبد الحفیظ نعیمی

یہ درد کا موسم ہے پھر سینہ دری مانگو

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    یہ درد کا موسم ہے پھر سینہ دری مانگو

    کچھ اور جنوں والو آشفتہ سری مانگو

    جب چاک ہی ہونا ہر دامن کا مقدر ہے

    پھر جیب دریدہ سے کیوں بخیہ گری مانگو

    آنکھوں کے دریچوں سے در آتے ہیں درد و غم

    بچنا ہے لٹیروں سے تو بے بصری مانگو

    آئینوں کی قسمت میں تو خود شکنی تھی ہی

    فولاد کی فطرت سے تم خود نگری مانگو

    اب مصر میں یوسف کے بھی دام نہیں لگتے

    نا قدروں کی اس دنیا میں بے ہنری مانگو

    ایوانوں پہ تو شب کے سائے ہی مسلط ہیں

    زندانوں کے روزن سے نور سحری مانگو

    ملتی ہے قفس سے بھی پرواز کی حد اکثر

    دانے کی ہوس والو بے بال و پری مانگو

    تسلیم کی توہیں ہے نادانو دعا خود ہی

    عادت ہے دعاؤں کی تو بے اثری مانگو

    کھیلو ابھی تاروں سے دل چاند سے بہلاؤ

    بچے ہو نہ بچپن میں بالغ نظری مانگو

    ہر حادثہ دیوار و در ہی سے ہے وابستہ

    محلوں کے پرستارو بے بام و دری مانگو

    یوں بجھتے چراغوں کی لو تیز نہیں ہوتی

    ڈھلتے ہوئے سایوں سے شعلہ نگری مانگو

    یہ خار و گل و شعلہ سب وہم ہے نظروں کا

    ارباب بصیرت سے کچھ دیدہ وری مانگو

    کنجوس تہی دامن دنیا تمہیں کیا دے گی

    مانگو جو نعیمیؔ تو آہ سحری مانگو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے