Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نشو و نما کا ہر کوئی حق دار کیوں نہیں

روحی کنجاہی

نشو و نما کا ہر کوئی حق دار کیوں نہیں

روحی کنجاہی

MORE BYروحی کنجاہی

    نشو و نما کا ہر کوئی حق دار کیوں نہیں

    ہر راہ سب کے واسطے ہموار کیوں نہیں

    خاموش رہ سکے نہ عجب رنگ دیکھ کر

    ورنہ ہمیں لحاظ رخ یار کیوں نہیں

    اس طرز برہمی سے ہمیں اختلاف ہے

    ورنہ خیال خاطر سرکار کیوں نہیں

    سب کچھ اگر ہے ٹھیک تو پھر یہ سوال ہے

    اہل نظر بھی تیرے طرف دار کیوں نہیں

    کرتا نہیں زمانہ کسی کو کبھی معاف

    تیری نظر میں وقت کی رفتار کیوں نہیں

    جس سرزمیں سے پیار کا دعویٰ تجھے ہے آج

    اس سر زمیں کے باسیوں سے پیار کیوں نہیں

    پودا تو ہے درخت کی صورت میں سامنے

    لیکن کوئی بھی شاخ ثمر بار کیوں نہیں

    ظالم کو یاد کرتے ہیں ظالم کے نام سے

    روحیؔ عیاں ہے خوش وہ ستمگار کیوں نہیں

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے