جذبے کو زبان دے رہا ہوں
جذبے کو زبان دے رہا ہوں
پتھر کو بھی جان دے رہا ہوں
اک یاد کو دفن کر کے دل میں
دشمن کو امان دے رہا ہوں
منصف کا مزاج جانتا ہوں
بے سود بیان دے رہا ہوں
چہرے پہ سجا کے خون اپنا
قاتل کا نشان دے رہا ہوں
فصلوں کو تو بارشوں نے لوٹا
مٹی کا لگان دے رہا ہوں
بہروپ بدل کے آندھیوں کا
تنکوں کو اڑان دے رہا ہوں
اس شہر میں شعر کہہ کے محسنؔ
صحرا میں اذان دے رہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.