Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

پونچھ کر اشک غریبوں کو ہنسانے والے

محی الدین وارث

پونچھ کر اشک غریبوں کو ہنسانے والے

محی الدین وارث

MORE BYمحی الدین وارث

    پونچھ کر اشک غریبوں کو ہنسانے والے

    اب کہاں ملتے ہیں وہ اونچے گھرانے والے

    اب تو ہر موڑ پہ ہوتا ہے تماشا ہر دن

    اب تو ہر بات پہ حیراں ہیں زمانے والے

    تیرے آنگن کو خدا یوں ہی چراغاں رکھے

    میرے خوابوں کے چراغوں کو بجھانے والے

    تیرے چہرے کی جھلک پانے کو بے تاب ہے دل

    تیرے جیسی تری تصویر بنانے والے

    کیا کبھی لوٹ کے آتے ہیں وہ پیارے چہرے

    تپتے صحرا میں مجھے چھوڑ کے جانے والے

    میرے دیدار کو اک روز بہت ترسے گا

    زندگی بھر کے لیے چھوڑ کے جانے والے

    آپ دل تھام کے بیٹھے رہو محفل میں ابھی

    آج وارثؔ ہیں غزل اپنی سنانے والے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے