پونچھ کر اشک غریبوں کو ہنسانے والے
پونچھ کر اشک غریبوں کو ہنسانے والے
اب کہاں ملتے ہیں وہ اونچے گھرانے والے
اب تو ہر موڑ پہ ہوتا ہے تماشا ہر دن
اب تو ہر بات پہ حیراں ہیں زمانے والے
تیرے آنگن کو خدا یوں ہی چراغاں رکھے
میرے خوابوں کے چراغوں کو بجھانے والے
تیرے چہرے کی جھلک پانے کو بے تاب ہے دل
تیرے جیسی تری تصویر بنانے والے
کیا کبھی لوٹ کے آتے ہیں وہ پیارے چہرے
تپتے صحرا میں مجھے چھوڑ کے جانے والے
میرے دیدار کو اک روز بہت ترسے گا
زندگی بھر کے لیے چھوڑ کے جانے والے
آپ دل تھام کے بیٹھے رہو محفل میں ابھی
آج وارثؔ ہیں غزل اپنی سنانے والے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.