Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہمارے راستے میں کوئی مجبوری نہیں آتی

حارث بلال

ہمارے راستے میں کوئی مجبوری نہیں آتی

حارث بلال

MORE BYحارث بلال

    ہمارے راستے میں کوئی مجبوری نہیں آتی

    خدا کا شکر ہے دنیا ہمیں پوری نہیں آتی

    یہاں سانسیں کمانے کا بھی اتنا بوجھ ہوتا ہے

    مشقت جسم کھا جاتی ہے مزدوری نہیں آتی

    میں ان کو ایک دوجے کی بھلی باتیں بتاتا ہوں

    سنا ہے اس طرح لوگوں میں مغروری نہیں آتی

    مجھے درپیش ہے گھر میں بسی دنیا کی رکھوالی

    مگر دفتر سے اک افسر کی منظوری نہیں آتی

    جو سجدوں میں رکھے جائیں وہ نیزوں پر بھی آتے ہیں

    خدا کے نام لیواؤں پہ معذوری نہیں آتی

    میں اس مجمع کا حصہ ہوں جہاں لوگوں کے حصے میں

    بدن پر پورے کپڑے ہوں تو مشہوری نہیں آتی

    بہت نزدیک ہونا بھی وفا کا عیب ہے حارثؔ

    ذرا سے فاصلے پر درمیاں دوری نہیں آتی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے