قدم قدم پہ ہوا دل کو منزلوں کا گماں
قدم قدم پہ ہوا دل کو منزلوں کا گماں
نگر نگر میں تھا پھیلا ہوا دھواں ہی دھواں
جچی بدن پہ نہ میرے کوئی ردائے جہاں
پہن پہن کے ہے دیکھی قبائے سود و زیاں
طلسم اسپ تنفس کی جاں نوردی دیکھ
رواں دواں ہے مگر چھوڑتا نہیں ہے نشاں
پلٹ پلٹ کے جو دستک در حیات پہ دی
گرج گرج صدا آئی نہیں ہے کوئی یہاں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.